IDRAK, departmental research journal, HU - Mansehra

شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک

Department of Urdu, Hazara University, Mansehra
ISSN (print): 2412-6144
ISSN (online): 2709-4413
References

۱۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے اس معاملے کو انجمن کے تعلق سے بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

”دلچسپ بات یہ ہے کہ انجمن ہی نے شبلی پر ایسا خطرناک حملہ کیا کہ جس سے وقتی طور پر شبلی کی شہرت کو خاصا نقصان پہنچا۔ میری مرا د شبلی کی شعرالعجم پر حافظ محمود شیرانی کے اس طویل تنقیدی مضمون سے، جو انجمن ترقی اردو کے سہ ماہی رسالے ’اردو‘ میں قسط وار شائع ہوااور بعد میں وہ طویل مضمون کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ ایسے شواہد موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مضمون مولوی عبدالحق کی فرمائش پر لکھا گیا تھا۔ مولوی صاحب کا علامہ شبلی سے دل صاف نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مولوی صاحب، سر سید اور حالی کے زبردست حامی بلکہ عاشق تھے۔ اس کے برعکس علامہ شبلی کو سرسید اور حالی دونوں سے بعض معاملات میں اختلاف تھا۔ سرسید سے یہ اختلاف کچھ زیادہ تھامولوی عبدالحق نے شبلی پر تنقیدی مضمون لکھ کر چھاپنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان پر ایسا الزام بھی لگایا، جس سے آج تک علامہ کو بریت حاصل نہیں ہو سکی۔ہوا یہ کہ مولوی محمد امین زبیری نے خطوطِ شبلی کے نام سے، شبلی کے خطوط کا مجموعہ مرتب کیا اور اس پر مولوی عبدالحق سے مقدمہ لکھوایا، مولوی صاحب نے مقدمے میں علامہ شبلی اور عطیہ فیضی کے تعلقات کے بارے میں کچھ ایسے اشارے کیے کہ جن بنیاد بنا کر شبلی کے بعض ناقدین نے ایک دلچسپ رومان پرور طویل داستان مرتب کرلی۔“  (شبلی کی حمایت میں، مشمولہ شبلی معاندانہ تنقید کی روشنی میں،انجمن ترقی اردوہند،۱۹۸۷ء، ص ۷-۶)

مولوی عبدالحق کے معاندانہ عمل کو ’انجمن کی طرف سے خطرناک حملہ‘ قرار دینا ڈاکٹر خلیق انجم کی اپنی اختراع ہے۔ مزید بے احتیاطی دیکھیے’مولوی عبدالحق نے شبلی پر تنقیدی مضمون لکھ کر چھاپنے‘۔۔ اصل میں ’لکھوا‘ لکھنا تھا۔

۲۔’یادگارِ شبلی‘ میں مصنف نے کمال خوبی سے اپنے ممدوح کو زیر کی کوشش کی ہے۔ جگہ جگہ ایسی اشارتیں، شہادتیں اور اسلوب کی ایسی’مہارتیں‘ روا رکھی ہیں کہ کتاب علامہ شبلی کی حیات و خدمات کے غیر جانبدار تذکرے کی بجائے ہجو بن کر رہ گئی ہے۔ ایک جھلک ملاحظہ ہو:

 ”مولانا کی حساس طبیعت کے لیے یہ ایک اور چرکا تھا۔ اگلے سال انھوں نے زیادہ محنت اور باقاعدگی سے امتحان کی تیاری کی اور ۱۸۸۱ء میں کامیاب ہو کراعظم گڑھ میں ہی وکالت شروع کی لیکن وہ طبعاً مغرور اور کم آمیز تھے اور ابتدائی سالوں میں تو یہ رنگ بڑا گہر اتھا۔“ (ایس۔ ایم۔ اکرام، یادگارِ شبلی، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور،طبع دوم۱۹۹۴ء، ص۶۹)   

۳۔”مولوی عبد الحق نے شبلی اور عطیہ (ملحوظ خاطر رہے کہ عطیہ عمر میں علامہ شبلی سے کم سے کم تیس سال چھوٹی تھیں) کے تعلقات کے بارے میں اظہار رائے کیا تھا۔ شیخ محمد اکرام نے شبلی پر اپنی دونوں کتابوں ’شبلی نامہ‘ اور پھر’یادگارشبلی‘ میں بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ اور ڈاکٹر وحید قریشی نے ’شبلی کی حیات معاشقہ‘ کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ان دونوں حضرات نے علامہ کے بارے میں ایسی بے بنیاد، لغو اور مہمل باتیں کیں، جو ہم عام آدمی کے بارے میں بھی کہنے سے پہلے کئی بار سوچیں گے۔ ان حضرات کی کتابوں سے ایک ایسی فضا بن گئی کہ تمام اہل اردو علامہ اور عطیہ کے تعلقات کو اسی روشنی میں دیکھنے لگے۔“(خلیق انجم،شبلی کی حمایت میں، مشمولہ شبلی معاندانہ تنقید کی روشنی میں، ص۹-۷)

۴۔ سید احمد خان، سر، (دیباچہ) المامون از شبلی نعمانی، دارالمصنفین اعظم گڑھ، انڈیا،اشاعت سوم۱۹۹۲ء، ۱ تا ۴

۵۔ ڈاکٹر خالد ندیم کے الفاظ دیکھیے:”اس ساری بحث سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ علی گڑھ اور سر سید کے متعلق شبلی کے مبینہ خیالات اور باہمی کشمکش کی تشہیر نے ہی تنقیصِ شبلی کو فروغ دیااور یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ ’بزم میں رزم کا رنگ‘ بھرنے کا کام سید سلیمان ندوی نے نہیں، اقبال احمد خان سہیل نے کیا تھا۔“ (خالد ندیم، ڈاکٹر، شبلی شکنی کی روایت اور دوسرے مضامین، نشریات، لاہور،ص۴۵)

شیخ اکرام کی عبارت دیکھیے: ”ہمارا خیال ہے کہ ان صفحات کا ہیولٰی سید صاحب نے نہیں بلکہ ان کے دوست مولوی اقبال احمد سہیل کے دماغ میں تیار ہوا۔“(یادگارِ شبلی، ص۱۰)

 ۶۔ اس ضمن میں دیکھیے صفحات۲۸۱تا ۲۹۶بہ عنوان سلسلہ ’سر سید سے کشمکش اور اختلاف‘؛ حیات شبلی، از سیدسلیمان ندوی، دارالمصنفین اعظم گڑھ، ایڈیشن۱۹۹۳ء

۷۔سید سلیمان ندوی، مولانا، حیات شبلی، دارالمصنفین اعظم گڑھ، ایڈیشن۱۹۹۳، ص۲۹۴

۸۔ ایضاً، ص۲۹۳

۹۔”اب تک مولانا کے تاریخی معلومات اسی قسم کی کتابوں کے ذریعے سے تھے، جب وہ علی گڑھ پہنچے اور سر سید کے کتب خانہ میں عربی تاریخ و جغرافیہ کی وہ نادر کتابیں ان کو نظر آئیں جو یورپ یا مصر و شام اور قسطنطنیہ میں چھپی تھیں، تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور یہیں سے تاریخ اسلام کے مطالعہ کا نیا دور شروع ہوا۔“(سید سلیمان ندوی، حیات شبلی،  ص۱۳۶)

۱۰۔ سید احمد خان، سر، مکتوبات سر سید(جلد دوم) مرتبہ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور، طبع ثانی جون۱۹۷۶ء، ص۵۰

 ۱۱۔”۔۔۔۱۸۸۵ء میں مثنوی ’صبح امید‘ لکھی جس میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی پُر درد داستان کی شرح کے بعد سر سید کی نئی تحریک کی کامیابی پر ایک نئی صبحِ امید کے طلوع کی خوشخبری سنائی، مثنوی باربار چھپی اور مقبول عام ہوئی۔“ (حیات شبلی، ص ۱۳۲)

۱۲۔ سید احمد خان، سر، مکتوبات سر سید(جلد دوم)، ص۳۳

۱۳۔ سید احمد خان، سر، مکتوبات سر سید(جلد اول)،۷۸-۲۷۷

۱۴۔ایضاً، ص۲۷۷

۱۵۔ سید احمد خان، سر، مکتوبات سر سید(جلد دوم)، ص۱۷۵

 ۱۶۔ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:

”یہ وقت علی گڑھ کی پالیٹکس کا بڑا نازک تھا، ان دنوں سر سید ایک طرف اپنے بیٹے کی بدمستی اور بدمزاجی سے نہایت قلبی کوفت اور اذیت میں تھے اور دوسری طرف سید محمود کی جانشینی اور ٹرسٹیز بل کی منظوری کے سبب سے سر سید کے اچھے اچھے دوست بلکہ دست و بازو ان سے الگ ہو رہے تھے۔ نواب وقار الملک اور دوسرے اکابر ارکان کی طرف سے بالاعلان مخالفت کی تحریریں اخباروں میں جاچکی تھیں، یہاں تک کہ نیک صفات مولانا حالی بھی موافقت نہ کر سکے کہ دفعتہ چند روز کی علالت کے بعد ۲۷مارچ ۱۸۹۸ء کو سر سید نے وفات پائی اور ساری مخالفانہ کارروائیاں روک دی گئیں۔۔۔۔اب کالج سراسر مسٹر بک پرنسپل اور سید محمود کے ہاتھوں میں آگیا۔ اور سید محمود کی حالت روز بروز بگڑتی ہی گئی۔۔۔۔مولانا نے فروری میں ہی ارادہ کر لیا تھا کہ وہ پہلی مئی سے چھ مہینہ کی رخصت لیں گے، اس واقعہ کے بعد تو اور ضروری ہو گیا، چنانچہ مئی ۱۸۹۸ء سے پہلے چھ مہینہ کی رخصت لی، پھر استعفا بھیج دیا۔ اس طرح سولہ برس کی پر انقلاب، سبق آموز اور ہنگامہ خیز زندگی کے بعد علی گڑھ کو خیر آباد کہا۔“(سید سلیمان ندوی، حیات شبلی، ص۳۲۔۳۳۱)

]علامہ شبلی کے کالج چھوڑنے کے حوالے سے علی گڑھ کی پالیٹکس ہی درست تناظر ہے۔ یاد رہے کہ سید ندوی نے کتاب کے صفحات ۲۸۱تا ۲۹۶میں اس معاملے کو سر سید سے جوڑنے کو پوری شد و مد سے کوشش کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سید ندوی طے کیے بیٹھے تھے کہ سرسید کو لازماً مورد الزام ٹھہرانا ہے۔ اس عبارت میں بھی ’بیٹے کی بدمستی و بدمزاجی‘ جیسے الفاظ متعصبانہ ہیں۔کتاب کے دیگر حصوں میں بھی جہاں تہا ں انھیں موقع ملا انھوں نے سر سید کو ہدف بنانے کے لیے صاف شہادتو ں کی بھی غلط تفہیم و تعبیر کی ہے لیکن قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ فسانہ طرازی کے بعد سچی باتیں بھی ان کے قلم سے سر زد ہو گئیں ہیں۔[

Author(s):

Pakistan

Details:

Type: Article
Volume: 18
Issue: 18
Language: Urdu
Id: 63af10a951821
Pages 22 - 32
Published December 30, 2022

Copyrights

Copyright (c) 2019 Idrak, departmental research journal, Hazara Univeristy, Mansehra, Pakistan
Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution-NonCommercial-ShareAlike 4.0 International License.