References
*پرنسپل انویسیٹی گیٹر، NRPU 11880، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ اُردو، یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور
** معاون/کو پرنسپل انویسیٹی گیٹر، NRPU 11880 ، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ ایجوکیشن، یونیورسٹی ایجوکیشن ملتان کیمپس، ملتان
***اشتراکی ممبر، NRPU 11880 ،اسسٹنٹ پروفیسر، سابقہ ایڈوائزر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ڈرامیٹک کلب و حالیہ اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ انگریزی، جی سی لاہور
**** ریسرچ اسسٹنٹ، NRPU 11880، ایم فل سکالر، شعبہ اُردو، یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور
۱۔ محمد سلیم ملک،ڈاکٹر،”سید امتیاز علی تاج کی تمثیل شناسی“،لاہور: مجلس ترقی ادب،ستمبر ۲۰۱۰ء، ص نمبر۳۱۳
۲۔ ایضاً، ص نمبر۱۱۳
۳۔ ایضاً، ص نمبر۲۱۳
۴۔ ایضاً،ص نمبر:۵۱۳ تا ۹۱۳
۵۔ ”سید امتیاز علی تاج کی تمثیل شناسی“، ص نمبر۲۲۳ تا۳۲۳
۶۔ تاج،سید امتیاز علی، مرتبہ:”طالب بنارسی کے ڈرامے“(تعارف)،لاہور: مجلس ترقی ادب،طبع اول ،جون۱۹۵۷ء،ص ن
۷۔ ایضاً
۸۔ عشرت رحمانی،مرتبہ،”آغا حشر کے ڈرامے“،طبع اول ،لاہور : مجلس ترقی ادب،جون ۱۹۸۷ء، ص۵،۶
۹۔ تدوین ڈراما کے سلسلے میں دی گئی مذکورہ تفصیلات ، معلومات اور تحقیقی اعداد و شمارکا ماخذ راقم کا مجلہ "تحقیق نامہ " جلد ۲۳، شمارہ ۱، ص ۲۱۴-
۲۲۷، ۲۰۱۸میں شائع ہونے والا مقالہ بعنوان" پاکستان میں تدوین ڈڑاما ، روایت اور اہمیت " ہے ۔یہاں تک کی تمام تر تفصیلات ، اعداد و شمار
اور معلومات کو اسی مقالے سے اخذ کیا ہے تاکہ اُردوتدوین ڈراما کی روایت کے تسلسل کو یہاںایک ہی مقالہ میں تقسیم سے تاحال ایچ ای سی کی
جانب سے خصوصا اُردو ڈراماکی تدوین کے سلسلے میں کئے جانے والے تعاون اور معاونت کے تناظر میں دیکھا جا سکے۔
۱۰۔ سرمد صہبائی، "آڑے ترچھے آئینے ، سٹیج ڈرامے "، تحقیق و تدوین : محمد نوید، لاہور: گرمانی مرکز زبان و ادب لمز، اکتوبر ۲۰۲۰ء ، ص ۹
۱۱۔ یہاں "غلام عباس "اُردو کے افسانہ نگار نہیں بلکہ کوئی اور ہم نام غیر معروف ڈراما نگار ہیں۔
۱۲۔ راولپنڈی آرٹ کونسل میں سیٹ ڈیزائنر تھے اور لیاقت ہال راولپنڈ ی میں کئی سٹیج ڈراموں کے لیے خدمات انجام دیں ۔ آغا ناصر ، آغا بابر ، انور سجاد اور دیگر اہم ڈراما نگاروں کے سٹیج ڈراموں کے لیے سیٹ ڈیزائن کیے ۔ریٹائرڈ ہیں، لمحہ موجودہ میں راولپنڈی میں مقیم ہیں۔ان سے راولپنڈی میں تھئیٹر اور سٹیج ڈرامےکے حوالےسے کئی یاداشتیں مدون کرنے کو ملیں ۔
۱۳۔ یہاں ڈاکٹر وقار عظیم سے مراد اُردو افسانہ اور ڈراما کے نامور محقق اور ناقد نہیں بلکہ یہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس سے وابستہ ہیں اور
وہاں ڈراما سیکشن میں بطور انچارج /ڈائریکٹراپنی عملی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
۱۴۔ یہ معلومات ناصر ولیم اور ڈاکٹر وقار عظیم سے انٹرویو ز کے دوران حاصل ہوئیں ۔ سن کے حوالے سے کسی مستند ذریعے سے علم نہیں ہو سکا ۔
البتہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور نے سال ۲۰۲۰ء میں یہ ڈراما اپنی سالانہ سرگرمی کے طور پر لوئر مال کیمپس کے جمنیزیم میں پیش کیا۔
۱۵۔ آغا بابر، "راولپنڈی میں تھئیٹر"، مشمولہ: قند )ڈراما نمبر(،مردان،۱۹۶۱ء، ص ۲۳۴
۱۶۔ علی -احمدhttps://ur.wikipedia.org/wiki/
علی احمد پاکستان میں جدید اُردو تھئیٹر کا غیر معروف لیکن انتہائی معتبر حوالہ ہے۔ انہوں نے ناصرف اسٹیج ڈرامے تحریر کیے بلکہ انہیں کراچی ،
لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں اسٹیج بھی کیا ۔افسوس کہ ان سےمتعلق کسی اہم اورمستند ذریعے سے خاطر خواہ معلومات حاصل نہ ہو
سکیں۔ البتہ ثمینہ احمد سے ان کے ہاتھ کا ایک تحریر کردہ مقالہ مجھے ملاجسے علیحدہ سے تدوین کے بعد کسی تحقیقی مقالہ کا حصہ بنایا جائےگا۔
ان کے اہل و اعیال سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا البتہ ان کے کچھ قریبی دوستوں سے ملاقات ضرور ہوئی لیکن وہ ان کی تاریخ پیدائش سے متعلق لا
علم تھے۔ان کی زندگی اورتھئیٹر سے وابستگی کے حوالے سے زیادہ تر معلومات کا انحصار راقم کا ثمینہ احمد سے ۷ جون ۲۰۰۹ء کو اپنے پی ایچ ڈی
کےمقالہ کے لیے لیا گیا انٹرویو ہے ۔ جبکہ تاریخ وفات کا حوالہ انٹر نیٹ سے اخذ کیا گیا ہے۔
۱۷۔ تاریخ پیدائش کے حوالے سے یہ معلومات "پی ٹی وی لاہور ڈراموں میں سماجی حقیقیتں" سے اخذ کی گئی ہیں جو ۲۰۰۰ء میں گورنمنٹ کالج
یونیورسٹی میں ایم فل اُردوکی سندی تحقیق کے لیے تحریر کیا گیا۔
۱۸- یہ معلومات راقم نے اپنی تحریر کردہ کتاب "لاہور میں اُردو تھئیٹر کی روایت اور ارتقاء" ۲۰۱۶ءسے اخذ کی ہیں۔
۱۹۸۔ The News(Daily), Friday, 7 June 2019 Lahore.
۲۰۔ ڈاکٹر انور احمد، "اُردو افسانہ ایک صدی کا قصہ " ، فیصل آباد، مثال پبلشرز، ۲۰۱۰، ص۶۳۹
۲۱۔ یہ معلومات پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اُردو کی سطح پر تحریر کیے جانے والے غیر مطبوعہ مقالہ بعنوان" آغا بابرحیات اور ادبی خدمات
"،مقالہ نگار:درخشاں لیاقت، ۲۰۱۴" ص نمبر ۲۶ سے اخذ کی گئی ہیں۔
۲۲۔ یہ معلومات ناصر ولیم جو کہ راولپنڈی آرٹس کونسل اور لیاقت ہال میں بطور سیٹ آرٹسٹ کے طور پر ملازمت کرتے رہے اور اب ریٹائر ہوچکے ہیں اور ڈاکٹر وقار عظیم جو پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں ڈراما سیکشن کے انچارج ہیں ان سے حاصل کی گئیں ۔
۲۳۔ محمد سلمان بھٹی، ڈاکٹر، "لاہور میں اُردو تھئیٹر کی روایت اور ارتقا"، کراچی: بک ٹائم، ۲۰۱۶،ص ۲۰۴
۲۴۔ ایضاً
۲۵۔ دوران ریہرسل اصغر ندیم سید اداکار طلبا کے ساتھ چائے پر بے تکلفی سے گفتگو کیا کرتے تھے ۔اُن کی ڈراما سے متعلق کی گئی باتوں میں سے یہ رائے مجھے آج بھی یاد ہے ۔ اس لیے موضوع کی مناسبت سے یہاں اس رائے کو درج کرنا مناسب سمجھا۔
۲۶۔ یہ معلومات ولیم پرویز سے لیے گئے انٹرویو/مکالمے سے اخذ کی گئی ہیں جوراقم الحروف نے اُن سے اسلام آبادمیں ۲۴جون۲۰۲۱ء بروز
جمعرات بوقت ۷:۳۰ پر لیا۔ اس کے علاوہ اُن کی جانب سے فراہم کیے گئے تحریر ی ذاتی کوائف سے بھی مد د حاصل کی گئی ۔
۲۷۔ یہ تما م معلومات احمد حبیب کےبھجوائے گئے ذاتی کوائف نامہ سے حاصل کی گئی ہیں۔
۲۸۔ یہ معلوما ت ڈاکٹر سیف اللہ کی جانب سے فراہم کردہ تحریری تفصیلات CVسے نقل کی گئی ہیں۔ جو انہوں نے راقم کو بذریعہ ای میل فراہم
کیا۔
۲۹۔ یہ تمام معلومات عزیز اعجاز کی جانب سے فراہم کردہ ذاتی کوائف سے اخذ کی گئی ہیں جو انہوں نے ۱۳ اپریل ۲۰۲۲ءکو ارسال کیا ۔
۳۰۔ تاریخ پیدائش نقل بمطابق اصل شناختی کارڈ۔
۳۱۔ سمیر احمد سے ایک غیر رسمی مکالمہ ، بتاریخ : ۰۶ اکتوبر ۲۰۲۱ ، بمقام : لاہور۔
۳۲۔ لاطینی اصطلاح ہے جو کہ زیادہ ترایسے سفیروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جنہیں ناپسندیدگی کی بنا پر ملک بدر کر دیا جائے۔یہاں یہ اصطلاح
دو معنوں میں استعمال کی گئی ہے:
اول : ایک شخص کو ناپسندیدہ قرار دے کر محل سے نکال کر کسی دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔
دوم: ایک ہیجڑے/ خواجہ سرا کےلیے ناپسندیدگی کا اظہارجس کا کوئی سماجی مقام و مرتبہ نہیں اور اُس کا محل بدر کیا جانا۔
۳۳۔ یہ تمام معلومات دمینتی گوسائی سے کراچی میں اُن سے ملاقات اوراُن کی جانب سے فراہم کردہ کوائف سے اخذ کی گئی ہیں۔
۳۴۔ یہ تما م تر معلومات اے ڈی بلوچ کے فراہم کردہ ذاتی کوائف نامے سے اخذ کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اُن سے کیے گئے مکالمے سے بھی کئی
معلومات اکٹھا کی گئیں جو اُن سے وٹس ایپ کے ذریعے بتاریخ ۲۱ ستمبر ۲۰۲۲ کوکیا ۔
۳۵۔ درج شدہ معلومات ڈاکٹروقار عظیم سے حاص کیے گیے کوائف نامہ سے نقل کی ہیں جو انہوں نے بتاریخ ۶ اکتوبر ۲۰۲۲ کو بذریعہ وٹس ایپ
مجھےارسال کیا۔
Author(s):
Pakistan
Pakistan
Pakistan
Details:
| Type: | Article |
| Volume: | 18 |
| Issue: | 18 |
| Language: | Urdu |
| Id: | 63af16d809cd8 |
| Pages | 52 - 84 |
| Published | December 30, 2022 |
Copyrights
| Copyright (c) 2019 Idrak, departmental research journal, Hazara Univeristy, Mansehra, Pakistan |
|---|

This work is licensed under a Creative Commons Attribution-NonCommercial-ShareAlike 4.0 International License.