IDRAK, departmental research journal, HU - Mansehra

شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک

Department of Urdu, Hazara University, Mansehra
ISSN (print): 2412-6144
ISSN (online): 2709-4413

داستان کا احیا"ایک جائزہ"

  • Dr Salman Bhatti/
  • Muhammad Naeem Sarwar/
  • July 10, 2017
Keywords
fictional literature,language,Urdu language,Appendix,misconception,narration,translation, English,Francis W Pritchett,Dastan Ameer Hamza
Abstract

The fictional literature of any language is verily worth enough to feel pride on it. Urdu language can also be a lucky language in this regard. This is a common misconception that fiction is something to be read whereas it is more linked with narration and listening. This study is an Urdu translation of the English study conducted by Francis W Pritchett. This study aims at highlighting the importance of fiction writing in Urdu language for the readers of Urdu function by focusing on the research and critical studies conducted on fiction. This study also explored the minute difference between fiction and story. This study is an attempt to encompass all the critical and research studies conducted on fiction till 1990 and Dastan Ameer Hamza is presented as representative of the fiction work. In this regard the information given in Appendix will prove quite interesting and helpful for the fiction lovers.

References

http://www.columbia.edu/cu/mesaas/faculty/directory/pritchett.htm1 

2۔  "Here the Dragons" یہ محاورہ  1700ء کے اوائل میں  تواتر سےایسے “cartographers  نقشہ سازوں کے لیے   استعمال کیا جاتا تھا جو نقشوں پر  ناپسندیدہ مقامات اورایسے خطرناک علاقوں کی نشاندہی کرتے تھے جہاں سمندری قزاق قابض ہوتے یا ان کے موجود ہونے کا خطرہ ہوتا یا ان کے علاوہ کسی خطرناک آبی مخلوق کا خطرہ  موجود ہوتا۔

3۔"داستان امیر حمزہ "کی جو داستان فارسی میں دستیاب ہوتی ہے وہ ایک یا چھوٹی چھوٹی دو جلدوں میں دستیاب ہے ۔ اُردو میں اسےفورٹ ولیم کالج کے  توسط سے  1801ء میں خلیل اللہ خان اشک نے فارسی سے اُردو میں ایک ہی جلد میں منتقل کیا ،اس کے نصف صدی بعد امان اللہ خاں غالب لکھنوی نے 1855ء میں اس کا ایک نیا  نسخہ تیار کیا۔ اس آخر الذکر یا دونوں نسخوں کو سامنےرکھ کر مطبع نول کشورنے عبداللہ بلگرامی کے قلم سےتیسر ا نسخہ 1871ء میں تیار کیا  جومعمولی ترامیم کے ساتھ پہلے تصدق حسین رضوی ایڈیشن (1877ء)اور پھر(1945ء)کے ایڈیشن کی صورت میں سامنے آیا۔ اب مجلس ترقی ادب ،لاہور نے بھی اس کی تمام جلدیں  شایع کی ہیں۔

اشرف صبوحی دہلوی نے کچھ یاداشتیں قلم بند کیں اور اس میں داستان سے متعلق بھی کئی خیالات کا اظہار کیا اس سلسلے میں  اگر مزید تفصیل جاننی ہو تو اشرف صبوحی دہلوی کی یاداشتیں "میر باقر علی " دلی کی چند عجیب ہستیاں " جو انجمن ترقی اُردو ،ہند سے 1943 ء میں شایع ہوئی اسکے صفحہ نمبر  36 سے 63 تک کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ جس میں  اُن کی      داستان گوئی  کا حوالہ خارج از دلچسپی نہیں۔اشرف صبوحی دہلوی کے علاوہ میر باقر علی اور اُن کی داستان گوئی کے حوالے سے سید یوسف بخاری دہلوی  کی کوشش" میر باقر علی      داستان گو" کے عنوان سے فروری 1961ء  میں "اُردو نامہ "  کی جلد 23 میں بھی شایع ہوئی جسے بعد میں ان کی کتاب "یارانِ رفتہ " مطبع: مکتبہ ء اسلوب، 1987میں بھی شامل کیا       گیا۔

محمد حسن عسکری کی کتاب " انتخاب ِ طلسم ِ ہوشربا" مکتبہ جدید ، لاہور سے 1953 ء میں شایع ہوئی ،جبکہ بعد میں اسے اُتر پردیش اُردو

اکیڈمی ، لکھنئو سے 1985ءمیں  بھی شایع کیا گیا۔

اس ضمن میں "راز یزدانی " کے چار مقالے قابل ذکر ہیں جن کی  ترتیب کچھ یوں ہے:

         راز یزدانی، "داستان ِ حمزہ" ، مشمولہ: نگار، (تمبر 1959ء)، ص 25-30

         راز یزدانی، "مطبوعہ طلسم ہوشربا" ، مشمولہ: نگار، (نومبر 1959ء)، ص6-12(علامہ نیاز فتح پوری صاحب کی ادارت میں بھوپال سے  

      رسالہ ”نگار“ کا ۱۹۲۲ء میں اجراء ہوا، پھر لکھنؤ منتقل ہوا بعد ازاں علامہ صاحب ہجرت کرکےپاکستان آ گئے تو یہ رسالہ بھی کراچی

       منتقل ہوگیا۔)

       راز یزدانیِ " اُردو میں داستان گوئی اور داستان نویسی" ، مشمولہ : آج کل ، جلد 18 ، (مئی   1960ء)، ص 3-9

        راز یزدانیِ " اُُردو داستانوں پر کام کا تجزیہ اور تبصرہ" ، مشمولہ : آج کل ، جلد 18 ، (جولائی  1960ء)، ص 27-34

      (رسالہ "آج کل" کا اجراءنومبر 1942ء میں دلی سے ہوا۔)

اس ضمن میں سید وقار عظیم کی کتاب" ہماری داستانیں" کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے جسے اول :اُردو مرکز لاہور نے  1964ء میں شایع کیا ، دوم : اسے  اضافات کے ساتھ دوبارہ ادبی دنیا ، دہلی     سے 1964ء مٰیں شایع کیا گیا۔

رئیس احمد جعفری ،"طلسم ہوشربا"، لاہور: شیخ غلام علی اینڈ سنز ، 1959ء

فرمان فتح پوری، دلدار علی ، " اُردو کی منظوم داستانیں" ، کراچی : انجمن ترقی اُردو ، 1971ء

10۔ گیان چند جین، " اُردو کی نثری داستانیں"، طبع دوم، کراچی:  انجمن ترقی اُردو ہند، 1969ء

11۔کلیم الدین احمد، "اُردو زبان اور فن داستان گوئی " ، لکھنئو: ادارہ فروغ اُردو، 1972ء

12۔راہی معصوم رضا، "طلسم ِ ہوشربا  اک مطالعہ"، بمبئی: کیابان پبلی کیشنز، 1979ء

13۔انڈو آرین زبان ]ہند آریائی زبانیں،ہندستانی زبانیں [

14۔ اس ضمن میں سہیل بخاری کا مقالہ"اُردو داستان کا فنی تجزیہ " مشمولہ : نقوش، جلد 105 (اپریل –جون) 1966ء میں شایع ہوا۔ جبکہ دوسری کوشش  " اُردو داستان تحقیقی و تنقیدی مطالعہ " کی صورت میں مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد سے 1987ء میں شایع ہوئی ۔

15۔ راز یزدانیِ " اُردو میں داستان گوئی اور داستان نویسی" ، مشمولہ : آج کل ، جلد 18 ، (مئی   1960ء)، ص 6-7

16۔ گیان چند جین، " اُردو کی نثری داستانیں"،ص 56-57

17۔داستان امیر حمزہ کی کل سات جلدیں ہیں جن میں سے اس داستان کی اولین چار جلدیں احمد حسین جاہ نے مکمل کیں جبکہ بقیہ تین جلدیں احمد حسین قمر نے مکمل کیں۔

18۔ اس سلسلے میں تیسری رائے  جو رضا  لائبریری رامپور میں قلمی مسودے کی صورت میں موجود ہے ناقص ہے ۔  ]مدیر[

19۔ سہیل احمد خان، "داستانوں کی علامتی کائنات"، لاہور:پنجاب یونیورسٹی ، 1987ء

20۔"جوزف کیمبل" امریکی    مصنف ،معلم ،نقاد، ماہر علم الاصنام ، ان کے کارنامہ ہائے   میں نمایا ں کام Comparative mythology and Comparative Religion.

21۔”موریس بورا" انگریزی مصنف  آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے ،ادبی نقاد اورقدیم یونانی ادب پر قابل قدر تحقیقی کام چھوڑا۔

22۔"رینے گینوں  " فرانسیسی مصنف تھے جو عبدالوحد یحییٰ کے نام سے بھی جانے جاتےہیں۔ مابعد الطبعیات ،تاریخ، مذہبیات ، ریاضیات اور علم الاصنام پر قابل  قدر تحقیقی کام چھوڑا۔

23۔سہیل احمد خان  کی کتاب "داستان در داستان" میں " داستانوں کی ظاہری و باطنی معنویات پر منتخب مضامین " میں یہ مضمون بھی شامل ہے جسے رسالہ "قوسین " نے 1987ء  میں         لاہور سے طبع کیا۔

24۔ یہ نکتہ نظر سہیل احمد خان کی کتاب " داستانوں کی علامتی کائنات" میں تحریر کردہ ایک مضمون "طلسم " سے لیا گیا ہے ۔ اس کتاب میں تین مضامین ہیں جن کاعنوان         اور ذکر مقالے کے متن میں موجود ہے۔

25۔ سہیل احمد خان ، "داستانوں کی علامتی کائنات"، لاہور: پنجاب یونیورسٹی ، 1987، ص73

26۔ مصنفہ نے اس ضمن میں نیگیٹوز دیکھنے یا نقول منگوانے کےلیے پتہ اور فون نمبر بھی فراہم کر دیا ہے:6050 ساوتھ کین وڈ، شکاگو، ایلینیوز 60637: فون نمبر: 4545-955-312

27۔ یہ مضمون "The development of the modern novel in Urdu" کے عنوان سے  مضامین کے اُس مجموعے میں شایع ہوا جسے  T.W. Clark نے مرتب  کیا اور اسے George Allen اور Unwin نے لندن سے 1970ء میں شایع کیا۔ یہ مضمون اس کتاب کے صفحہ نمبر 102 سے شروع ہوتا ہے ۔

28۔ یہ کتاب “Marvelous Encounters: Folk Romance in Urdu and Hindi”ہے جسے Frances W. Pritchett نے تحریر کیا یہ کتاب داستان اور قصہ کے فرق اور اس کی روایت کو سمجھنے کے حوالے سے بہت منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب  

 1985Riverdale Maryland:The Riverdale Company میں شایع ہوئی۔

29-  یہ کتاب "The Romance Tradition in Urdu: Adventures from the Dastan of Amir Hamzah" کے عنوان سے New York Columbia University Press سے 1991ء میں شایع ہوئی جس کی مصنفہ Frances W.Pritchett ہیں۔

 30۔گیان چند جین نے یہ فہرست اپنی کتاب " اُردو کی نثری داستانیں " میں  پیش کی ہیں جو صفحہ نمبر 473-474پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

How to cite

Bhatti, D. S., & Sarwar, M. N. (2019). داستان کا احیا"ایک جائزہ". شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک, 7(1), 55–70. https://idrak.hu.edu.pk/website/journal/article/5d60f4fe5d045/page

Retrieved from https://idrak.hu.edu.pk/website/journal/article/5d60f4fe5d045/page

More citation formats
ACM SIG Proceedings
[1]Bhatti, D.S. and Sarwar, M.N. 2019. داستان کا احیا"ایک جائزہ". شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک. 7, 1 (Sept. 2019), 55–70.
ACS Nano
(1)Bhatti, D. S.; Sarwar, M. N. داستان کا احیا"ایک جائزہ". شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک 2019, 7 (1), 55–70.
ABNT
BHATTI, Dr Salman; SARWAR, Muhammad Naeem. داستان کا احیا"ایک جائزہ". شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک, v. 7, n. 1, p. 55–70, 23 Sept.2019.
Chicago (author-date)

            
Harvard (Cite Them Right)
Bhatti, D.S. and Sarwar, M.N. (2019) “داستان کا احیا‘ایک جائزہ’”, شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک, 7(1), pp. 55–70. Available at: https://idrak.hu.edu.pk/website/journal/article/5d60f4fe5d045/page (Accessed: 6 June 2026).
IEEE
[1]D. S. Bhatti and M. N. Sarwar, “داستان کا احیا‘ایک جائزہ’”, شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک, vol. 7, no. 1, pp. 55–70, Sept. 2019, Accessed: June 06, 2026. [Online]. Available: https://idrak.hu.edu.pk/website/journal/article/5d60f4fe5d045/page
MLA
Bhatti, Dr Salman, and Muhammad Naeem Sarwar. “داستان کا احیا‘ایک جائزہ’”. شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک, vols. 7, no. 1, Sept. 2019, pp. 55–70, https://idrak.hu.edu.pk/website/journal/article/5d60f4fe5d045/page.
Turabian (full note bibliography)
Bhatti, Dr Salman, and Muhammad Naeem Sarwar. “داستان کا احیا‘ایک جائزہ’”. شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک 7, no. 1 (September 23, 2019): 55–70. Accessed June 6, 2026. https://idrak.hu.edu.pk/website/journal/article/5d60f4fe5d045/page.
Vancouver
1.Bhatti DS, Sarwar MN. داستان کا احیا"ایک جائزہ". شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک [Internet]. 2019 Sept. 23 [cited 2026 June 6];7(1):55–70. Available from: https://idrak.hu.edu.pk/website/journal/article/5d60f4fe5d045/page
AMA
1.Bhatti DS, Sarwar MN. داستان کا احیا"ایک جائزہ". شعبہ جاتی تحقیقی مجلہ ادراک. 2019;7(1):55–70. Accessed June 6, 2026. https://idrak.hu.edu.pk/website/journal/article/5d60f4fe5d045/page

Download citation Endnote/Zotero/Mendeley (RIS) BibTeX

Author(s):

Pakistan

Pakistan

Details:

Type: Article
Volume: 7
Issue: 1
Language: Urdu
Id: 5d60f4fe5d045
Pages 55 - 70
Published July 10, 2017

Statistics

  • 2849
  • 648
  • 736

Copyrights

Copyright (c) 2019 Idrak, departmental research journal, Hazara Univeristy, Mansehra, Pakistan
Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution-NonCommercial-ShareAlike 4.0 International License.